بنگلورو،8؍فروری(ایس او نیوز) خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والے خاندانوں کو ماہانہ بی پی ایل راشن کارڈ پر آٹھ کلو چاول مہیا کرائے جائیں گے۔ یہ اعلان آج وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کیا۔ کانگریس لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ میں اس سلسلہ میں آج اتفاق رائے سے فیصلے کے بعد یہ بھی طے کیاگیا کہ کشیرابھاگیہ اسکیم کے تحت اسکولی بچوں کو ہفتے میں پانچ دن دودھ مہیا کرایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سدرامیا نے بتایاکہ جن بی پی ایل راشن کارڈوں کو آدھار سے منسلک کیاگیا ہے،انہیں دو ماہ کا راشن اور گیس کنکشن ہونے کے باوجود بھی مٹی کا تیل مہیا کرایا جائے گا۔ لیجسلیچر پارٹی میٹنگ میں اراکین اسمبلی نے وزیر اعلیٰ سدرامیا پر زور دیا کہ اراکین اسمبلی کے علاقائی ترقیاتی فنڈ کو دو کروڑ سے بڑھاکر پانچ کروڑ روپے سالانہ کیا جائے۔ مضافات بنگلور میں16؍ سو مقامات پر غیر قانونی طور پر سرکاری زمین پر کاشتکاری کرنے والے رعیتوں کے مفادات کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا۔ بی ڈی اے کی طرف سے جو زمینات اکوائر کی جارہی ہیں ان زمینات پر اگر غریبوں نے مکانات تعمیر کرلئے ہیں توان مکانات کو نہ ہٹانے بی ڈی اے کو واضح ہدایات جاری کی جائیں۔ یشونت پور کے رکن اسمبلی ایس ٹی سوم شیکھر کی طرف سے اراکین اسمبلی کے ترقیاتی فنڈ کو پانچ کروڑ روپے کرنے کی مانگ پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سدرامیا نے کہاکہ پانچ کروڑ تو ممکن نہیں ہے، البتہ اس فنڈ کو دو سے تین کروڑ کرنے پر غور کیا جائے گا۔ دیگر مطالبات پر بھی عمل کیا جائے گا۔ اراکین اسمبلی نے یہ شکایت کی کہ اپنے اپنے محکموں سے گرانٹس جاری کرنے کے معاملے میں وزراء صرف اپنے اقرباء کی بات مان رہے ہیں۔اراکین اسمبلی کی طرف سے ان کے حلقوں کی ترقی کے سلسلے میں پیش کی جانے والی تجاویز کو سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا ہے۔ خاص طور پر پینے کے پانی، جانوروں کیلئے چارہ اور خشک سالی سے جڑے دیگر امور پر وزراء کو اراکین اسمبلی کی مانگوں پر توجہ دینے کی ہدایت دینے کا ان لوگوں نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا۔ شمالی کرناٹک کے علاقوں میں مٹی کے تیل کے کثرت سے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے اراکین اسمبلی نے سدرامیا سے مانگ کی کہ ان علاقوں میں گیس کنکشن کے باوجود مٹی کے تیل کی شہری رسد نظام کے ذریعہ فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اراکین اسمبلی نے وزیراعلیٰ کو اس بات پر بھی متوجہ کرایا کہ جن راشن کارڈوں کو آدھار سے منسلک نہیں کیاگیا ہے ، محکمۂ خوراک انہیں منسوخ کرنے کی کوشش کررہا ہے، فوری طور پر اس سلسلے کو روکا جائے اور آدھار سے راشن کارڈوں کو منسلک کرنے کیلئے عوام کو مہلت دی جائے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سدرامیا نے تمام اراکین اسمبلی اور وزراء کو سخت ہدایت جاری کی کہ اسمبلی اورکونسل کی کارروائیوں میں وہ بلاناغہ حاضری دیں۔ کسی بھی طرح کی غیر حاضری کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ مختلف امور پر حکومت کو نشانہ بنانے اپوزیشن پارٹیوں کی کوششوں کا جواب دینے کیلئے حکمران پارٹی کو بھی پوری طرح مستعد رہنا چاہئے۔